نگلورو،29/اپریل(ایس او نیوز) ریاست کے کندگول اور چنچولی اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کے لئے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔آج بی جے پی کے علاوہ کانگریس اور جے ڈی ایس کے متحدہ امیدواروں نے پرچہئ نامزدگی داخل کئے۔ حکمران اور اپوزیشن جماعتوں نے ان ضمنی انتخابات کو وقار کا مسئلہ بنالیا ہے۔ جن کے نتائج کا دارومدار ریاست کی مخلوط حکومت کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ نامزدگی داخل کرنے کے آخری دن آج کندگول سے سابق وزیر آنجہانی سی ایس شیولی کی بیوہ کسماوتی شیولی اور چنچولی سے سبھاش راتھور نے کانگریس امیدواروں کے طور پر پرچہئ نامزدگی داخل کیا تو وہیں چنچولی کے بی جے پی امیدوار ڈاکٹر اویناش جادھو اور کندگول سے بی جے پی امیدوار کے طور پر ایس آئی چکناگوڈا نے پارٹی قائدین کے ہمراہ نامزدگی کاغذات داخل کئے۔ چنچولی میں سابق وزیراعلیٰ سدرامیا، کے پی سی سی صدر دنیش گنڈو راؤ اور ریاستی وزیر ڈی کے شیوکمار نے کانگریس امیدوار کے ہمراہ نامزدگی داخل کرنے کے موقع پر حاضر رہے۔ جبکہ چنچولی میں کانگریس امیدوار کی نامزدگی کے داخلے کے موقع پر سینئر کانگریس رہنما ملیکارجن کھرگے، نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور اور ریاستی وزیر پریانک کھرگے موجود تھے۔ یہ دونوں حلقے کانگریس پارٹی کے قبضے میں تھے، چنچولی کے کانگریس رکن اسمبلی امیش جادھو کی بی جے پی میں شمولیت اور ریاستی وزیر سی ایس شیولی کی ناگہانی موت کے سبب ضمنی انتخابات کرائے جارہے ہیں۔ حلیف جماعتیں ان دونوں حلقوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے کوشاں ہیں تو وہیں بی جے پی ان حلقوں پر کامیابی کے ذریعے اسمبلی میں اپنی طاقت کے اضافے کے لئے نبرد آزما ہے۔ کل ان دونوں حلقوں میں نامزدگی کاغذات کی جانچ ہوگی اور 2مئی نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ ہوگی، جبکہ 19 مئی کو یہاں پولنگ کرائی جائے گی اور لوک سبھ انتخابات کے نتائج کے ساتھ 23مئی کو ووٹوں کی گنتی عمل میں آئے گی۔ ضمنی انتخابات کے نتائج سے دونوں پارٹیوں کو سیاسی فائدہ حاصل ہونے والا ہے۔ اگر یہاں پر کانگریس کامیاب ہوگئی تو مخلوط حکومت مزید مستحکم ہوجائے گی تو وہیں اگر بی جے پی کامیاب ہوتی ہے تو اسمبلی میں اس کے اراکین کی تعداد 104 سے 106تک پہنچ جائے گی۔ جس کے بعد آپریشن کمل کرنے کے لئے اس کے حوصلے مزید بلند ہوسکتے ہیں۔ اب جبکہ چنچولی میں آپریشن کمل کے نتیجے میں ضمنی انتخابات ہورہے ہیں، اگر یہاں بی جے پی کامیاب ہوگئی تو آئندہ آپریشن کمل کا شکار بننے والوں کی تعداد دوگنی ہوسکتی ہے۔ یہاں کانگریس کو کامیابی ملی تو آپریشن کمل کا شکار بننے کے لئے تیار چند اراکین اسمبلی اپنا ارادہ تبدیل کرنے پر مجبور بھی ہوسکتے ہیں، جس کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتیں ان دونوں حلقوں پر کامیابی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں۔